صحرا نورد

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - جنگلوں میں پھرنے والا، مسافر؛ خانہ بدوش۔ "عمرو بھاگ کے قلعے سے باہر نکل گیا اور صحرا نورد ہوا۔"      ( ١٨٨٢ء، طلسم ہوش ربا، ٤٠١:١ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'صحرا' کے ساتھ فارسی مصدر 'نوردن' سے 'نورد' بطور لاحقہ فاعلی ملنے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ اور سب سے پہلے ١٧٩٥ء کو "دیوانِ قائم" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جنگلوں میں پھرنے والا، مسافر؛ خانہ بدوش۔ "عمرو بھاگ کے قلعے سے باہر نکل گیا اور صحرا نورد ہوا۔"      ( ١٨٨٢ء، طلسم ہوش ربا، ٤٠١:١ )